کتاب: سنت کی روشنی اور بدعت کے اندھیرے کتاب وسنت کے آئینہ میں - صفحہ 190
زیادہ خطرناک ہیں ۔ [1] اسی لئے سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ:’’ابلیس لعین کو گناہوں کی بہ نسبت بدعت زیادہ محبوب ہے، کیونکہ گناہوں سے تو توبہ کر لی جاتی ہے لیکن بدعت سے توبہ نہیں کی جاتی۔‘‘[2] اکثر وبیشتر ایسا ہی ہوتا ہے، البتہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔ (۶) بدعتی کی سمجھ کا الٹا ہوجانا: چنانچہ بدعتی نیکی کو بدی اور بدی کو نیکی، اسی طرح سنت کو بدعت اور بدعت کو سنت سمجھتا ہے، حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں : ’’واللّٰه لتفشُون البدع حتی إذا ترک شيء منھا ، قالوا : ’’ترکت السنۃ‘‘[3]
[1] دیکھئے: مدارج السالکین،از ابن القیم ، ۱/۲۲۲۔ [2] شرح السنۃ، از امام بغوی رحمۃاللہ علیہ ، ۱/۲۱۶۔ [3] اس اثر کی تخریج امام محمد بن وضاح نے ’’کتاب فیہ ماجاء في البدع‘‘ میں کی ہے، ص:۱۲۴، حدیث نمبر (۱۶۲) ، اس طرح کے دیگر آثار کیلئے دیکھئے مذکورہ کتاب کا صفحہ ۱۲۴-۱۵۶۔