کتاب: سنت کی روشنی اور بدعت کے اندھیرے کتاب وسنت کے آئینہ میں - صفحہ 188
اور اگر یہ ہم پر کوئی جھوٹی بات گھڑ لیتا، تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات پر جھوٹ منسوب کرنے سے متنبہ فرمایا ہے، اور ایسا کرنے والے کے لئے سخت عذاب کی وعید فرمائی ہے، ارشاد نبوی ہے:
’’من تعمد علي کذباً فلیتبوأ مقعدہ من النار‘‘[1]
جس نے جان بوجھ کرمیری طرف کوئی جھوٹ بات منسوب کی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے۔
(۳) بدعتیوں کا سنت اور اہل سنت سے بغض رکھنا:
اس سے بدعات کی خطرناکی کی وضاحت ہوتی ہے۔ امام اسماعیل بن عبد الرحمن صابونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’اہل بدعت کی نشانیاں ظاہر وباہر ہیں ، ان کی سب سے واضح علامت یہ ہے کہ وہ حاملین سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید دشمنی اور عداوت رکھتے
[1] متفق علیہ،بروایت حضرت انس رضی اللہ عنہ، صحیح البخاری،کتاب العلم، باب إثم من کذب علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، ۱/۴۱، حدیث نمبر(۱۰۸)، وصحیح مسلم، المقدمۃ، باب تغلیظ الکذب علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ۱/۷، حدیث نمبر(۲)۔