کتاب: سنت کی روشنی اور بدعت کے اندھیرے کتاب وسنت کے آئینہ میں - صفحہ 182
ہوجائے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سارے کفار ومنافقین اور اہل بدعت و ضلالت کو ہدایت عطا فرمائی۔‘‘ [1]
نیز فرماتے ہیں :’’جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ بدعتی کی توبہ مطلقاً قبول نہ ہوگی ، ایسے لوگ انتہائی فاش غلطی کا شکار ہیں ۔‘‘[2]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی اس گفتگو کے ذریعہ بدعتی کی توبہ کی عدم قبولیت والی حدیث کی بڑی واضح تشریح فرمائی ہے، وللہ الحمد۔
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’إن اللّٰه حجب التوبۃ عن صاحب کل بدعۃ‘‘[3]
اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی سے توبہ کو روک دیا ہے ۔
اس حدیث کے مفہوم کی وضاحت ابھی ابھی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
[1] مجموع فتاوی، از شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ۱۰/۹-۱۰۔
[2] مصدر سابق، ۱۱/۶۸۵۔
[3] المعجم الأوسط للطبراني، ۸/۶۲، حدیث نمبر (۴۷۱۳)، [مجمع البحرین في زوائد المعجمین] ، اما م ہیثمی مجمع الزوائد میں فرماتے ہیں :’’اس حدیث کے رواۃ صحیح بخاری کے رواۃ ہیں ، سوائے ہارون بن موسیٰ فروی کے، اور وہ بھی ثقہ ہیں ‘‘، ۱۰/۱۸۹، نیز اس حدیث کی سند کو علامہ البانی نے ’’سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے، ۴/۱۵۴، حدیث نمبر (۱۶۲۰) اور اس کی دیگر سندیں ذکر کی ہیں ۔