کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 98
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی اچھے خواب کی تمنا کرسکتا ہے۔ پھر اچھائی کے جو کام خواب میں دکھائے جائیں، اس کے مطابق عمل بھی کرے۔ خصوصاً تہجد کی نمازپڑھنے کے قرآن و حدیث میں بڑے فضائل آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ﴿قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ﴾’’رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم۔‘‘[1] ﴿إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ﴾’’درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور بات کرنے میں زیادہ درستی والا ہے۔‘‘ [2] عطار ہو رومی ہو رازی ہو غزالی ہو کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحرگاہی مذکورہ بالاخواب میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دائیں طرف لے جانے سے مراد یہ تھا کہ یہ آدمی نیک اور جنتی ہے۔ خواب میں تلوار کا ہلانا سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((رَأَیْتُ فِي رُؤیَايَ أَنِّي ہَزَزْتُ سَیْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُہٗ فَإِذَا ہُوَ مَا أُصِیبَ مِنَ الْمُؤمِنِینَ یَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ ہَزَزْتُہُ أُخْرٰی فَعَادَ أَحْسَنَ مَا کَانَ فَإِذَا ہُوَ مَا جَائَ اللّٰہُ بِہٖ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤمِنِینَ)) ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار لہرائی تو اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا۔ اس کی تعبیر احد کی جنگ میں مسلمانوں کے شہید ہونے کی صورت میں سامنے آئی۔ پھر دوبارہ میں نے اسے ہلایا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ اچھی شکل میں ہوگئی۔ [1] المزمل 2:73۔ [2] المزمل 6:73۔