کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 96
مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ یُمْضِہٖ)) ’’مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی۔ ایک شخص تمھیں ریشم کے پارچے میں اٹھائے ہوئے تھا۔ اُس نے (مجھ سے) کہا کہ یہ آپ کی بیوی ہے اس کے (چہرے)سے پردہ ہٹائیں۔ میں نے پردہ اُٹھایا تو وہ تمھی تھیں۔ میں نے سوچا اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو پھروہ خود ہی انجام تک پہنچائے گا۔‘‘[1] خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دکھائی گئی تھیں۔ اس سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت، عظمت اور طہارت اُجاگر ہوتی ہے۔ منافقوں نے ان پر تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں ان کی پاکبازی اور طہارت کا اعلان کردیا۔ ریشم کے ٹکڑے میں لپٹے ہونے کا مطلب یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح کریں گے۔ ریشمی لباس پہننا عورتوں کے لیے جائز ہے، اس وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ریشم کے پارچے میں دکھایا گیا۔ خواب میں عورت نظر آئے تواس سے یہ مراد ہوتا ہے کہ دنیاحاصل ہو گی۔ رزق میں فراخی ہوگی۔[2] امام ابن سیرین رحمہ اللہ کا کہنا ہے:خواب میں ریشم کا دیکھنا اس امر کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ مال میں وسعت ملے گی، خیر و برکت، عزت و مرتبہ، ریاست اور بزرگی نصیب ہوگی۔ خواب میں بے خوفی کا تجربہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں خواب دیکھتے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر بتادیتے تھے جیسا کہ اللہ چاہتا۔ میں اس [1] صحیح البخاري، حدیث: 7011۔ [2] فتح الباری: 12؍500۔