کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 93
صفات کے ساتھ زمین پر تشریف لائیں گے۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: انبیائے کرام علیہم السلام کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ کا فضل و کرم ہوگا۔ عزت اور بزرگی ملے گی، قوت اور صلابت حاصل ہوگی۔ دونوں جہان کی خیر اور بھلائی ہوگی۔ عام آدمی کے دجال کو دیکھنے کی تعبیر یہ ہے کہ اسے دیکھنے والا شخص فتنے میں مبتلا ہوگا، آزمائش آئے گی۔ اللہ تعالیٰ اسے استقامت عطا فرمائے۔ آمین! خواب میں پھونک مارنے کا مطلب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُ فِي یَدَيَّ سِوَارَیْنِ مِنْ ذَہَبٍ فَأَہَمَّنِي شَأْنُہُمَا فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنْ أَنْفُخَھُمَا فَنَفَخْتُہُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُہُمَا کَذَّابَیْنِ یَخْرُجَانِ مِنْ بَعْدِيْ فَکَانَ أَحَدُہُمَا الْعَنْسِيَّ صَاحِبَ صَنْعَائَ وَالْآخَرُ مُسَیْلَمَۃَ صَاحِبَ الْیَمَامَۃِ)) ’’میں سو رہا تھاکہ میں نے (خواب میں) دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ہیں، وہ مجھ پر بڑے ناگوار گزرے۔ بعد ازاں خواب ہی میں مجھے وحی کے ذریعے کہا گیا کہ میں ان دونوں کنگنوں میں پھونک ماروں، چنانچہ میں نے پھونک ماری تو وہ اُڑگئے۔ اس کی تعبیر میں نے یہ سمجھی کہ یہ دو جھوٹے ہیں جو میرے بعد ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ایک صنعاء کا رہنے والا (اسود) عنسی ہے اور دوسرا یمامہ کا رہنے والا مسیلمہ ہے۔‘‘[1] [1] صحیح مسلم، حدیث: 2273۔