کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 92
خواب میں سیدنا عیسٰی علیہ السلام اور دجال کو دیکھنے کی تعبیر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَرَانِي اللَّیْلَۃَ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ فَرَأَیْتُ رَجُلًا آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَہُ لِمَّۃٌ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنَ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَہَا تَقْطُرُ مَائً مُتَّکِئًا عَلٰی رَجُلَیْنِ أَوْ عَلٰی عَوَاتِقِ رَجُلَیْنِ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ فَسَأَلْتُ مَنْ ہٰذَا؟ فَقِیلَ الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ، ثُمَّ إِذَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ، أَعْوَرَ الْعَیْنِ الْیُمْنٰی کَأَنَّہَا عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ فَسَأَلْتُ مَنْ ہٰذَا؟ فَقِیلَ الْمَسِیحُ الدَّجَّالُ)) ’’رات کومجھے خواب میں کعبے کے پاس دکھایا گیا۔ میں نے گندمی رنگ کے ایک صاحب کو دیکھا۔ وہ گندمی رنگ کے سب سے خوبصورت آدمی کی طرح تھے۔ ان کے لمبے خوبصورت بال تھے۔ ان سب سے خوبصورت بالوں کی طرح جو تم دیکھ پائے ہو۔ ان میں انھوں نے کنگھی کی ہوئی تھی اور ان سے پانی ٹپک رہا تھا۔ وہ دو آدمیوں کے سہارے یا یہ فرمایا کہ دو آدمیوں کے شانوں کے سہارے بیت اللہ کا طواف کررہے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں! مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح ابن مریم علیہما السلام ہیں۔ پھر اچانک میں نے ایک گھنگریالے بال والے آدمی کو دیکھا جس کی ایک آنکھ کانی تھی اور انگور کے دانے کی طرح ابھری ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔‘‘[1] سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جو صفات بیان کی گئی ہیں دیگر احادیث میں آتا ہے کہ وہ انھی [1] صحیح البخاري، حدیث: 6999۔