کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 91
والے کے اعتبار سے ہوتا ہے کہ وہ کیسا ہے؟ جنس اور وقت کا نہیں۔[1] رات کے خواب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ الْکَلِمِ وَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَبَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ الْبَارِحَۃَ إِذْ اُوتِیتُ بِمَفَاتِیحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ حَتّٰی وُضِعَتْ فِي یَدِيْ)) ’’مجھے جامع کلمات دیے گئے ہیں اور رعب کے ذریعے سے میری مدد کی گئی ہے۔ اور گزشتہ رات میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور انھیں میرے سامنے رکھ دیا گیا۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعدکہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے چلے گئے اور تم ان خزانوں کی کنجیوں کو منتقل کر رہے ہو۔‘‘[2] امام بخاری رحمہ اللہ نے رات کے خواب اور دن کے خواب کا باب علیحدہ علیحدہ قائم کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ان میں چنداں کوئی فرق نہیں ہوتا، دونوں ہی سچے ہوسکتے ہیں۔ خصوصاً انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب تو ہوتے ہی سچے ہیں، یہ ضروری نہیں کہ خواب کی تعبیر زندگی ہی میں نکلے، وفات کے بعد بھی تعبیر ظہور میں آٓسکتی ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں۔ اس سے فتوحات بھی مراد ہیں جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے عہد میں ہوئیں۔ مال و دولت بھی مراد ہو سکتا ہے جو مسلمانوں کو قیصر و کسرٰی کے خزانوں سے حاصل ہوا۔ [1] فتح الباري: 12؍490۔ [2] صحیح البخاري، حدیث: 6998۔