کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 90
کَمَا قَالَ فِي الْاُولٰی، قَالَتْ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اُدْعُ اللّٰہَ أَنْ یَّجْعَلَنِي مِنْہُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِینَ فَرَکِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِي سُفْیَانَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِہَا حِینَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَہَلَکَتْ)) اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہوئے پیش کیے گئے، اس سمندر کی پشت پر وہ اس طرح سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا کیجیے کہ اللہ مجھے ان میں سے کردے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک سرہانے پر رکھا اور سو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں جنگ کرتے پیش کیے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں بھی شامل کردے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں ہو گی۔‘‘ چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بحری سفر پر گئیں اور جب سمندر سے باہر آئیں تو سواری سے گر کر شہید ہوگئیں۔[1] اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے ثابت کیا کہ عورت اور مرد کے خوابوں اور دن اور رات کے خوابوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ دونوں سچے ہوسکتے ہیں۔ فرق خواب دیکھنے [1] صحیح البخاري، حدیث: 7002۔