کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 88
اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کا دین شام کے علاقے میں خوب مضبوط ہوگا۔ (صحیح احادیث کے مطابق) آخری زمانے میں شام کا علاقہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک مضبوط قلعہ ہوگا۔ یہیں دمشق کے مشرق میں منارۂ بیضا کے پاس سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا۔[1] دن کے خواب امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے: ’’دن کے وقت خواب دیکھنا‘‘ اور اس کے تحت انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب ذیل خواب کاتذکرہ کیا ہے۔ اور ترجمۃ الباب میں امام ابن سیرین رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ دن اور رات کے خوابوں میں کوئی فرق نہیں۔[2] خواب میں ہنسنے کا مفہوم عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ ان کے یہاں گئے تو انھوں نے آپ کے سامنے کھانے کی چیز پیش کی۔ بعد ازاں وہ آپ کا سردیکھنے لگیں۔ اس دوران آپ سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے۔ مسرت کے باعث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خنداں و فرحاں بیدار ہوئے کیونکہ آپ کو خواب میں ایک خوشخبری دکھائی گئی تھی۔ آپ نے دیکھا تھا کہ آپ کے شاگردوں، پیروکاروں اور آپ کے فوجیوں نے جہاد کے لیے رختِ سفر باندھ لیا ہے، چنانچہ آپ خوش ہوئے کہ عنقریب آپ کے پیروکار اللہ کی راہ میں مجاہدین کی حیثیت سے سمندر پار کریں گے اور [1] تفسیر ابن کثیر، البقرۃ 129:2۔ [2] صحیح البخاري، قبل الحدیث: 7001۔