کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 87
یہ چشمہ جس سے اب لاکھوں زوّار صادرووارد سیراب ہورہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے لیے ظاہر فرمایا تھا، (چنانچہ یہ چشمہ صرف سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام ہی کی نہیں) عبدالمطلب کی بھی یادگار ہے۔،[1] الرحیق المختوم میں یہ خواب اس طرح درج ہے: پہلے واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ عبد المطلب نے خواب دیکھا کہ انھیں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور خواب ہی میں انھیں اس کی جگہ بتائی گئی۔ انھوں نے بیدار ہونے کے بعد اس کی کھدائی شروع کردی۔ رفتہ رفتہ وہ چیزیں برآمد ہوئیں جو بنوجرہم نے مکہ چھوڑتے وقت چاہِ زمزم میں دفن کی تھیں، یعنی تلواریں، زرہیں، اور سونے کے دونوں ہرن۔ عبد المطلب نے تلواروں سے کعبے کا دروازہ ڈھالا، سونے کے دو ہرن بھی دروازے ہی میں فٹ کیے اور حاجیوں کو زمزم پلانے کا بندوبست کیا۔[2] میں اپنی ماں کا خواب ہوں امام احمد رحمہ اللہ عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں اللہ کا بندہ ہوں۔ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ میں مجھے خاتم النبیین لکھ دیا تھا۔ میں تمھیں اس کی حقیقت بتاتا ہوں۔میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دُعا، عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی قوم کو بشارت اور اپنی ماں کے خواب کی تعبیر ہوں۔ میری والدہ نے خواب دیکھا تھا کہ ان کے وجود سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام کے محلات چمک اٹھے ہیں۔[3] حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نورِ نبوت کے ظہور کو ملک شام کے ساتھ خاص کرنا [1] رحمۃ للعالمین: 2؍63۔ [2] الرحیق المختوم، ص: 78۔ [3] مسند أحمد: 4؍128۔