کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 86
کئی آدمیوں کا یکساں خواب ’’سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں کو خواب میں شبِ قدر (رمضان) کی سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی اور کچھ لوگوں کو اس انداز سے دکھائی گئی کہ وہ آخری دس تاریخوں میں ہے۔ اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اِلْتَمِسُوھَا فِي السَّبْعِ الاَْوَاخِرِ‘ ’’اسے آخری سات تاریخوں میں تلاش کرو۔‘‘[1] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کئی آدمی ایک ہی بات کو خواب میں دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی خواب میں موافقت بھی ہوسکتی ہے، خواب ایک جیسے آسکتے ہیں۔ خصوصاً وہ لوگ جو نیک ہوں اور دینی امور کے بارے میں فکر مند رہتے ہوں، نیز جو خواب زیادہ افراد دیکھیں، وہ خواب سچا ہوتا ہے۔[2] جد رسول صلی اللہ علیہ وسلم عبد المطلب کا خواب کہا جاتا ہے کہ عبد المطلب تین شب متواتر یہ خواب دیکھتے رہے کہ کنواں نکالو۔ بعد ازاں خواب ہی میں آپ کو چاہ زمزم کی جگہ بھی دکھائی گئی۔ عبد المطلب اور آپ کے فرزند اکبر حارث نے اس جگہ کو کھودنا شروع کیا۔ تین دن کی کھدائی کے بعد بنو جرہم کی مدفونہ اشیاء ملنے لگیں۔ تلواریں، زرہیں، شاخہائے آہو وغیرہ وغیرہ۔ قریش کے لوگ اب تک تو عبدالمطلب کے فعل کو لغو ہی سمجھتے تھے، لیکن مدفونہ اشیاء کی برآمدگی نے ان کو بھی یاد کرادیا اور تب وہ درخواست کرنے لگے کہ اس شرف میں ان کو بھی شامل کرلیا جائے۔ مگر عبد المطلب نے انھیں اپنے ساتھ شامل کرنا پسند نہ کیا۔ [1] صحیح البخاري،حدیث:6991۔ [2] فتح الباري:12؍275۔