کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 85
میں بدر (ثانیہ)کے دن ہمیں عطا کیا۔‘‘[1] اُحد کے موقع پر جاتے ہوئے ابوسفیان یہ اعلان کرگئے تھے: ’’اگلے سال بدر میں ملاقات ہوگی۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدے کے مطابق اگلے سال شعبان 4 ہجری میں ڈیڑھ ہزار جمعیت کے ہمراہ بدر کا رُخ فرمایا۔ بدر پہنچ کر مسلمان مشرکین کا انتظار کرنے لگے۔ اور اس دور کے رواج کے مطابق جو سامانِ تجارت ہمراہ تھا، اسے بہت اچھے داموں بیچتے اور نفع کماتے تھے۔ ادھر ابوسفیان دو ہزار کی جمعیت لے کر مکہ سے روانہ ہوا لیکن ایک منزل آگے پہنچ کر اس پر مسلمانوں کی ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ آگے بڑھنے کی ہمت جواب دے گئی۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے سامنے مسلمانوں سے نہ لڑنے کا یہ بہانہ بنایا کہ یہ شادابی اور ہریالی کا موسم نہیں ہے۔ ہمارے جانور کہاں چریں گے کہ ہم ان کا دودھ پی سکیں۔ اس کے ساتھی بھی کم ہمتی کا شکار تھے۔ اس کی بات سن کر سب واپس لوٹ گئے۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ دن انتظار فرمایا اور مشرکین کے مکہ بھاگ جانے کی تحقیق کرلینے کے بعد آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ یہ مہم مسلمانوں کی قوت کا بہت بڑا مظاہرہ ثابت ہوئی اور پورے عرب پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی۔ جہاں تک کھجوروں کے علاقے یمامہ اور ہجر کی طرف ہجرت کا تعلق ہے، ہجربحرین کا شہر ہے، یہ کھجوروں کے علاقے تھے۔ اس حدیث میں اشارہ موجود ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں مگر کوئی دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ اس خواب کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار فرمایا۔ ان شہروں کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ [1] صحیح مسلم، حدیث: 2272۔