کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 79
لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا لغو اور بے ہودہ قسم کا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی تعبیر اس طرح کرسکتے ہیں کہ حکومت اور دولت میں خلل آئے گا۔ اگر غلام دیکھے تو آزاد ہوگا، بیمار دیکھے تو شفا ہوگی، قرض دار دیکھے تو قرض ادا ہوگا، اگر حج نہ کیا ہو توحج کرے گا، پریشان حال دیکھے تو خوشی ہوگی اور خوفزدہ دیکھے تو بے خوف ہوجائے گا۔ خواب میں بیڑیاں دیکھنے کی تعبیر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَکَدْ تَکْذِبُ رُؤیَا الْمُؤمِنِ وَ رُؤیَا الْمُؤمِنِ جُزْئٌ مِنْ سِتَّۃٍ وَّ أَرْبَعِینَ جُزْئً مِّنَ النُّبُوَّۃِ وَمَا کَانَ مِنَ النُّبُوَّۃِ فَإِنَّہُ لَا یَکْذِبُ)) ’’جب قیامت کا وقت قریب آئے گا تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہوگا۔ اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک ہے اور جو بات نبوت سے ہوتی ہے وہ جھوٹی نہیں ہوتی۔‘‘[1] امام محمد بن سیرین کا قول ہے: کَانَ یَکْرَہُ الْغُلَّ فِي الْنَّوْمِ وَ کَانَ یُعْجِبُہُمُ الْقَیْدُ وَیُقَالُ: اَلْقَیْدُ ثُبَاتٌ فِي الدِّینِ۔ وہ خواب میں گلے میں طوق کو بُرا اور پاؤں میں بیڑیاں دیکھنا اچھا سمجھتے تھے۔ کیونکہ اس کی تعبیر دین میں ثابت قدمی ہے۔ [1] صحیح البخاري، حدیث: 7017۔