کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 78
’’میں سویا ہوا تھا، میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔ ایک محل کے قریب ایک عورت وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ انھوں نے کہا: عمر کا۔ مجھے تمھاری غیرت یاد آگئی اور میں واپس چلا آیا۔ عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے عرض کرنے لگے: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا آپ پر میں غیرت کرتا؟‘‘[1] خواب میں کسی کو وضو کرتے دیکھو تویہ اس کے جنتی ہونے کی نشانی ہے۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ اس کا کام پورا ہوگا۔ اس واقعے سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ ان کی غیرت کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی احساس تھا، مزیدبرآں ان کے بارے میں پہلے ہی پیش گوئی کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں ان کا محل تیار کردیا ہے۔ خواب میں کٹے ہوئے سر کا منظر جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک اعرابی (بدو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا سر کٹ گیا ہے اور میں اس کے پیچھے جارہا ہوں۔ آپ نے اس کی سرزنش کی اور فرمایا: ((لَا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّیْطَانِ بِکَ فِي الْمَنَامِ)) ’’شیطان خواب میں تمھارے ساتھ کھیلتا ہے، اسے لوگوں کے سامنے بیان نہ کرو۔‘‘[2] اس سے معلوم ہوا اگر غلط قسم کا خواب آئے جس سے آدمی پریشان ہوجائے، اسے [1] صحیح البخاري، حدیث: 7025۔ [2] صحیح مسلم، حدیث: 5925۔