کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 77
مَہْیَعَہ میں ٹھہر گئی۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ مدینہ کی وبا مَہْیَعَہ کی طرف منتقل ہوگئی، یعنی جُحفہ کی طرف۔‘‘[1] اس حدیث سے معلوم ہواکہ خواب میں سیاہ عورت کو اس حالت میں دیکھنا اچھی علامت نہیں ہے۔ ایسے خواب کا یہ مطلب ہوگا کہ کوئی بیماری یا کسی قسم کی پریشانی سے واسطہ پیش آئے گا۔ خواب میں بلاؤں اور چڑیلوں کے نظر آنے سے مراد یہ ہوتا ہے کہ مختلف حالات و حوادث پیش آئیں گے، اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ اگر یہ جلدی چلی جائیں یا غائب ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان سے جلد نجات دلائے گا۔ اس حدیث میں سیاہ عورت کو جس کے بال پراگندہ تھے، بیماری سے تشبیہ دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’سوداء‘‘ کا جملہ دو الفاظ سے مرکب ہے۔ ایک ’’سو‘‘ جس کا معنی ہے بری اور دوسرا ’’دَاء‘‘ جس کا معنی ہے بیماری، مطلب ہوا بری بیماری۔ یہ اچھی چیز نہیں ہوتی۔ یہ سیاہی کی طرح ہے۔ بکھرے ہوئے بال اس چیز کی طرف اشارہ ہیں کہ بیماری اس طرح مدینہ سے نکل کر اِدھر اُدھر چلی جائے گی۔[2] خواب میں وضو کرنے کی تعبیر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ فرمارہے تھے: ((بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُنِي فِي الْجَنَّۃِ فَإِذَا امْرَأَۃٌ تَتَوَضَّأُ إِلٰی جَانِبِ قَصْرٍ فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ فَقَالُوا: لِعُمَرَ فَذَکَرْتُ غَیْرَتَہُ فَوَلَّیْتُ مُدْبِرًا، فَبَکٰی عُمَرُ وَقَالَ: عَلَیْکَ بِأَبِي وَ أُمِّي یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَغَارُ؟)) [1] صحیح البخاري، حدیث: 7039۔ [2] فتح الباري: 12؍532۔