کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 74
نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے اس باب سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ’رُؤیَا الْمُؤمِنِ الصَّالِحِ جُزْئٌ مِّنْ أَجْزَائِ النُّبُوَّۃِ‘ ’’نیک مومن کا خواب اجزائے نبوت میں سے ایک جز ہے۔‘‘ کی بشارت میں نیک عورتیں بھی شامل ہیں۔[1] خواب میں کنویں سے پانی نکالنے کا منظر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((بَیْنَنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُنِي عَلٰی قَلِیبٍ عَلَیْہَا دَلْوٌ فَنَزَعْتُ مِنْہَا مَاشَآئَ اللّٰہُ ثُمَّ أَخَذَہَا ابْنُ أَبِي قُحَافَۃَ، فَنَزَعَ بِہَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَیْنِ، وَ فِي نَزْعِہٖ، وَاللّٰہُ یَغْفِرُ لَہُ، ضَعْفٌ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَہَا ابْنُ الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِیًّا مِنَ النَّاسِ یَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ حَتّٰی ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ)) ’’میں سو رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو ایک ایسے کنویں پر پایا جس پر ڈول بھی موجود تھا۔ میں نے اس ڈول سے جتنا اللہ نے چاہا پانی کھینچا، پھر اس کو ابو قحافہ کے بیٹے (صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ) نے لے لیااور (پانی کے) ایک یا دو ڈول نکالے مگر ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ اسے معاف فرمائے گا، پھر وہ ڈول بڑا ہوگیا تو اسے عمر بن خطاب نے تھام لیا، میں نے لوگوں میں کوئی اتنا طاقتور اورماہر نہیں دیکھا جس نے عمر کی طرح پانی کھینچا ہو۔ انھوں نے کثرت سے پانی نکالا تو لوگ اپنے اونٹوں کو سیراب کرکے آرام کی جگہ لے گئے۔‘‘[2] [1] فتح الباري(طبع دارالسلام): 12؍491۔ [2] صحیح البخاری، حدیث: 3682، و صحیح مسلم، حدیث: 2392۔