کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 67
خواب درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی مستقبل کی چیزیں ذہن میں ڈالتا ہے، اسی لیے خواب کو وحی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اور اسی وجہ سے انھیں مبشرات بھی کہا گیا ہے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ صبح کی نماز کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوجاتے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خواب دیکھاہوتا تو اسے بیان کرتے یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھتے۔ جب صحابۂ کرام خواب سناتے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تعبیر بیان فرمادیتے۔ صبح کی نماز کے بعدیہ معمول اس لیے تھا کہ یہ وقت دعا کی قبولیت کا ہوتا ہے۔آدمی سوکر اُٹھتا ہے تو عموماً اس کی طبیعت ہلکی پھلکی ہوتی ہے۔ کھانا ہضم ہوچکا ہوتا ہے۔ اس لیے عموماً بُرے خواب نہیں آتے۔ صبح کے قریب آنے والے خواب عموماً سچے ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں صبح صبح خواب یاد بھی رہتے ہیں، پھر جب آدمی اپنے کام کاج میں مشغول ہوجاتا ہے تو خواب اوجھل ہو جاتے ہیں یا پھربھول جاتے ہیں یا ان کا کچھ حصہ یاد نہیں رہتا۔ آئمہ کرام کو چاہیے کہ صبح کی نماز کے بعد لوگوں سے مسائل وغیرہ پوچھیں۔ اگر کسی کو کوئی ضرورت درپیش ہویا کوئی مصیبت میں مبتلا ہو تو اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کسی کو خواب آئے تو اس کی تعبیر بتائیں بشرطیکہ وہ علم تعبیر جانتے ہوں۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آئمہ کرام کو نماز کے بعد کچھ وقت نمازیوں کو بھی دینا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خواب کی تعبیر میں وقت، موسم، تاریخ اور عمر وغیرہ کا بڑا دخل ہوتا ہے۔[1] [1] مشکاۃ حاشیہ مولانا محمد إسماعیل سلفی:3؍1556۔