کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 66
خواب کے ذریعے وحی کی ابتدا رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم پروحی کی ابتدا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے خوابوں ہی کے ذریعے سے ہوئی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ((أَوَّلُ مَا بُدِیَٔ بِہٖ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤیَا الصَّادِقَۃُ فِي النَّوْمِ فَکَانَ لَا یَرٰی رُؤیًا إِلَّا جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ فَکَانَ یَأْتِي حِرَائَ فَیَتَحَنَّثُ فِیہِ وَہُوَ التَّعَبُّدُ اللَّیَالِيَ ذَوَاتَ الْعَدَدِ وَ یَتَزَوَّدُ لِذٰلِکَ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں کے ذریعے سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے وہ صبح کی روشنی کی طرح سامنے آجاتا تھا اور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا تشریف لے جاتے تھے اور وہاں کئی راتوں تک تنہا اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں کا توشہ بھی ساتھ لے جاتے تھے۔‘‘[1] یہ صحیح بخاری کی طویل حدیث کا کچھ حصہ ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں کے ذریعے سے ہوئی تھی۔ یہ سلسلہ چھ ماہ تک جاری رہا۔ دور نبوت کا کل عرصہ 23 سال ہے۔ اس حساب سے چھ ماہ کا عرصہ چھیالیسواں حصہ بنتا ہے۔ اسی لیے مومن کے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔ [1] صحیح البخاري، حدیث: 6982۔