کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 62
غرض سے یہ قافلہ مکہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ ازواجِ مطہرات میں سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر کیا۔ اور میان میں بند تلواروں کے سوا اور کوئی اسلحہ ساتھ نہیں لیا۔ حدیبیہ کے مقام پر پہنچ کر مذاکرات ہوئے اور صلح ہوگئی۔ صلح کی شرائط میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ مسلمان اس سال عمرہ کیے بغیر واپس چلے جائیں گے اور آیندہ سال عمرہ کریں گے۔ اس صورتِ حال سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہو رہے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ہم عمرہ کریں گے، طواف کریں گے۔ بیت اللہ میں داخل ہوں گے۔ مگر یہ کیا ہوگیا؟ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توفرمایا تھا: ہم عمرہ کریں گے، بیت اللہ کا طواف کریں گے، مگر ایسا نہیں ہو سکا؟نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’بَلٰی! فَأَخْبَرْتُکَ أَنَّا نَاْتِیہِ الْعَامَ؟‘ ’’ہاں، لیکن کیا میں نے تمھیں یہ بھی کہا تھا کہ تم اس سال عمرہ کرنے جاؤ گے؟‘‘ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’فَإِنَّکَ آتِیہِ وَمُطَوِّفٌ بِہٖ ‘ ’’تم ضرور جاؤگے اور بیت اللہ کا طواف بھی کرو گے۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی سوال کیا تھا اور انھوں نے بھی یہی جواب دیا تھا۔[1] الغرض مسلمان شرط کے مطابق حدیبیہ ہی کے مقام پر جانورقربان کر کے یہیں سے واپس مدینہ منورہ چلے گئے اور آیندہ سال عمرہ کرنے آئے۔ پھر انھوں نے امن و سلامتی کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت کی اورعمرہ ادا کیا۔ [1] صحیح البخاري، حدیث: 2732،2731۔