کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 61
اس کے باوجود وہ ہٹ دھرمی سے کام لیتے تھے اور مسلمانوں کو بیت اللہ نہیں جانے دیتے تھے۔ مہاجر مسلمان جب اپنے آبائی وطن مکہ کو یاد کرتے اور ان کے دل میں خانۂ کعبہ کو دیکھنے کی حسرت پیدا ہوتی تو ان کے جذبات مچلنے لگتے تھے۔ مزیدبرآں جنگ خندق کے بعد مسلمان پورے جزیرہ نمائے عرب میں ایک زبردست طاقت بن کر ابھرے تھے اور فضا اب ان کے حق میں ہموار ہورہی تھی۔ روز بروز اسلام کی دعوت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ ان حالات میں مسلمانوں کا بحرِ شوق تموج میں آگیا۔ انھی دنوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانۂ کعبہ کی چابیاں سنبھال لی ہیں۔ سب نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے۔ اور عمرے سے فارغ ہوکر بعض نے سر منڈایا اور بعض نے بال کترائے۔[1] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک یہ تھا کہ صبح کی نماز کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ان کے خواب دریافت فرماتے تھے اور انھیں اپنا خواب بھی بتاتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو مذکورہ خواب سنایا تو وہ بہت خوش ہوئے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے عمرہ کرنے کا اعلان کردیا۔ لوگ جوق درجوق اکٹھے ہوگئے۔ زور و شور سے سفر کی تیاری شروع ہوگئی۔ گرد و نواح کے لوگوں کو بھی ساتھ چلنے کی ترغیب دی گئی۔ اس طرح 1400 کے قریب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوگئے۔ اس موقع پر یہ خطرہ بھی درپیش تھا کہ کفار مزاحمت کریں گے اور مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ بہرحال یکم ذوالقعدہ 6 ہجری کو سوموار کے دن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں عمرے کی [1] سیرۃ الرسول للشیخ عبد اللّٰہ بن محمد بن عبد الوہاب، ص: 273،472۔