کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 60
نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا ﴾ ’’بلاشبہ اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں حق کے ساتھ سچی خبر دی کہ اگراللہ نے چاہا تو تم اپنے سر منڈاتے اور بال کتراتے ہوئے مسجد حرام میں ضرور داخل ہوگے، تم(کسی سے) نہ ڈرتے ہوگے، چنانچہ اللہ وہ بات جانتا تھا جو تم نہیں جانتے تھے، لہٰذا اس نے اس سے پہلے جلد ہی ایک فتح عطاکردی۔‘‘[1] پس منظر مسلمان جب سے مکہ چھوڑ کر آئے تھے ان کے دل میں یہ تمنا انگڑائیاں لیتی تھی کہ کسی طرح دوبارہ اپنا وطن دیکھیں، پھر خانہ کعبہ، جسے چھوڑے ہوئے چھ سال کا عرصہ ہوچکا تھا، اسے دیکھنے کی تڑپ بھی تھی۔ مگر قریشِ مکہ مسلمانوں کو زیارت بیت اللہ کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ حالانکہ خانۂ کعبہ سارے عرب کا تھا اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں تھی، [1] الفتح 27:48۔