کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 57
انھوں نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ تم پر چوری کا الزام لگایا جائے گا۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ کے شاگردوں نے سوال کیا کہ ان دونوں افراد نے ایک جیسا خواب دیکھا مگر آپ نے دونوں کی تعبیر جُدا جدا بتائی ہے؟ آپ نے جواب دیا: پہلے شخص کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ نیک اور پارسا آدمی ہے۔ میں نے اس سے کہا: تم حج کرو گے۔ اس سلسلے میں میں نے قرآن مجید کی حسب ذیل آیت سے استدلال کیا: ﴿وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ ﴾’’اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو۔‘‘[1] دوسرے شخص کو دیکھا تو اس کے چہرے سے شیطنت ٹپک رہی تھی۔ وہ اچھا آدمی معلوم نہیں ہوتا تھا، اس لیے اسے دوسرا جواب دیا اور استدلال اس آیت سے کیا: ﴿ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ ﴾ ’’پھر منادی والے نے پکارا: قافلے والو! بلاشبہ تم چور ہو۔‘‘[2] اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خوابوں کی تعبیر کا علم اللہ کے احسانات میں سے ہے۔ یہ علم انبیائے کرام علیہم السلام کو ملا تھا۔ یہ علم ان کی پیروی کرنے والے نیک لوگوں کوملتاہے یا باعمل علماء کو نصیب ہوتا ہے۔ خوابوں کی تعبیر کرنے والے کو بُخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ نہ اس عمل سے کوئی ذاتی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کی خصوصیت سیدنا یوسف علیہ السلام کے کمالات اور معجزات میں سے ایک کمال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو خوابوں کی تعبیر، تأویل الاحادیث یا بات کی تہ تک پہنچنے اور معاملات کو [1] الحج 27:22۔ [2] یوسف 70:12۔