کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 56
خواب دیکھنے والے کے اعتبار سے تعبیرکا فرق خواب دیکھنے والی شخصیت کا خواب پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ دوسرے کا خواب اپنی طرف ہرگز منسوب نہیں کرنا چاہیے۔ جھوٹا خواب بیان کرنا گناہ ہے۔ جیسا کہ اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب ہمیشہ سچے ہوتے ہیں۔ وہ وحی کی اقسام میں سے ہیں۔ انھیں نبوت کا حصہ قرار دیا گیاہے۔ بعض دفعہ کافر اور فاسق کے خواب بھی سچے ہوجاتے ہیں۔ جیسے سیدنا یوسف علیہ السلام کے جیل کے دو ساتھیوں کے خواب تھے، جن کی تفصیل ابھی گزشتہ اوراق میں گزری ہے۔ شاہِ مصر کا خواب بھی سچا تھا کیونکہ اُس نے جیسا خواب دیکھا، اس کی ویسی ہی تعبیر نکلی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی نے جنگ بدر کے روز کفار کے بارے میں خواب دیکھا تھا جو سچ ثابت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پھوپھی کا نام عاتکہ تھا۔ وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئی تھی۔[1] بات چل رہی تھی کہ خواب دیکھنے والے کے اعتبار سے تعبیر میں فرق ہوتا ہے، مثلاً: ایک بادشاہ ہے اور ایک غلام ہے۔ ہرچند دونوں نے ایک ہی طرح کے خواب دیکھے ہوں تب بھی دونوں کے خوابوں کا مفہوم جُداگانہ ہوگا۔جیسا کہ امام ابن سیرین رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا: میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں نماز کے لیے اذان کہہ رہا ہوں۔ آپ نے جواب دیا: تم حج کروگے۔پھر اسی وقت دوسرے شخص نے بھی یہی کہا: میں نے بھی خواب میں اپنے آپ کو نماز کے لیے اذان دیتے پایا ہے۔ [1] تفسیر القرطبي 9؍124۔