کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 55
پہنچے گا۔ اس سے نجات کیسے حاصل ہوگی؟ اس کا انتظام کیسے کرنا ہے؟ اس کا طریقہ بھی انھوں نے بتادیا کہ خوشحالی کے دور کے سات سالوں کی فصل کو ذخیرہ کرنا ہے تاکہ آیندہ جن سات برسوں میں قحط پڑنا ہے ان کے لیے اناج کا ذخیرہ محفوظ رہے اور یہ طریقہ بھی بتا دیا کہ اسے کس طرح محفوظ رکھا جائے۔ گویا سیدنا یوسف علیہ السلام نے تعبیر کے ساتھ تدبیر بھی بتادی۔ انھوں نے فرمایا: ﴿فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّا تَأْكُلُونَ ﴾ ’’ چنانچہ تم جو (فصل) کاٹو، وہ اس کی بالیوں ہی میں رہنے دو، سوائے تھوڑی (مقدار) کے جو تم کھاؤ۔‘‘[1] سیدنا یوسف علیہ السلام نے فصل کو محفوظ رکھنے اور اناج کو خراب نہ ہونے دینے کا بڑا عجیب طریقہ بتایا۔ فرمایا کہ اگر فصل خوشوں ہی میں رہے تو خراب نہیں ہوتی، نہ اسے کیڑا لگتا ہے۔ پرانے زمانے سے فصل کو ذخیرہ کرنے کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے۔ پھر انھوں نے باقی اناج میں کفایت شعاری سے کام لینے کی بھی تاکید کی اور فرمایا: تم اس طرح اس قحط سالی پرقابو پاسکتے ہو۔ پھر سیدنا یوسف علیہ السلام نے فرمایا: آٹھویں سال خوب بارش ہوگی، ہر طرف ہریالی ہوگی اور پھل کثرت سے ہوں گے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے یہ باتیں وحی الٰہی کی روشنی میں بتائی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ’’تأویل الأحادیث‘‘ کا علم مرحمت فرمایا تھا، اسی وجہ سے انھوں نے ساری باتیں بتادیں۔ [1] یوسف 48:12۔