کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 52
کی طرف سے ہے۔ ان کی دعوت اور تاخیر کے اثرات بھی ظاہر ہوئے۔[1] پھر جیل کے دونوں ساتھی عام آدمی نہیں تھے بلکہ شاہی محل کے ملازم تھے۔ اُدھر سیدنا یوسف علیہ السلام نے بھی بتادیا کہ وہ خاندان نبوت کے ایک فرد ہیں اور ہدایت کے پابند ہیں، یہ خاندانی شرافت اسی وجہ سے ہے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے رہا ہونے والے قیدی سے جو فرمایا تھا ﴿ اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ ﴾ ’’اپنے آقا کے پاس جاؤ تو مجھے یاد ر کھنا۔‘‘ اس سے مراد یہ تھا کہ جو پیامِ حق اور تعلیم و دعوت آپ کو دی ہے اس کا تذکرہ مناسب طور پر اپنے آقا کے سامنے جاکر کردینا۔ عام مفسرین نے جو بات لکھی ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے یہ کہا تھا کہ ایک بے گناہ آدمی کئی سال سے جیل میں ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہا ہے۔ اسے ناحق جیل میں ڈالا گیا ہے۔ اس بات کا ذکر بادشاہ کے ہاں جاکر کردینا۔ بادشاہ مصر کا خواب ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَقَالَ الْمَلِكُ إِنِّي أَرَى سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي رُؤْيَايَ إِنْ كُنْتُمْ لِلرُّؤْيَا تَعْبُرُونَ ﴾ ’’اور بادشاہ نے کہا: بے شک میں (خواب میں) سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں جنھیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات سبز بالیاں اوردوسری خشک۔ اے درباریو! اگر تم خواب کی تعبیر بتاسکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔‘‘[2] بادشاہ کا یہ خواب پردۂ غیب سے سیدنا یوسف علیہ السلام کی رہائی کا سبب بن گیا۔ وہ یہ [1] ترجمان القرآن: 2؍259۔ [2] یوسف 43:12۔