کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 49
دو قیدیوں کا خواب اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيَانِ قَالَ أَحَدُهُمَا إِنِّي أَرَانِي أَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّي أَرَانِي أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِي خُبْزًا تَأْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ﴾ ’’اور اس کے ساتھ قید خانے میں دو جوان بھی داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: بے شک میں خود کو دیکھتا ہوں کہ شراب نچوڑ رہاہوں، اوردوسرا بولا: بے شک میں خود کو دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پرروٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں، اس میں سے پرندے کھارہے ہیں۔ ہمیں ان کی تعبیر بتائیں، بے شک ہم آپ کو نیک سمجھتے ہیں۔‘‘[1] سیدنا یوسف علیہ السلام کو عزیز مصر نے اپنی بیوی کے کہنے پر جیل بھیج دیا۔ حالانکہ ان کی بے داغ سیرت کی پاکیزگی، ان کے کردار کی پختگی، ان کی شرافت، امانت اور دیانت مختلف قرائن سے واضح ہو گئی تھی، پھر بھی محلاتی سازشوں کے تحت پاکیزہ کردار کے حامل سیدنا یوسف علیہ السلام جیل بھیج دیے گئے۔ یہ کتنے عجیب قیدی تھے کہ انھیں صرف اس لیے جیل بھیج دیا گیا کہ انھوں نے جرم کیوں نہیں کیا، معصیت کیوں نہیں کی؟ انھوں نے حسن کے [1] یوسف 36:12۔