کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 47
وہاں سے نکلے تو غلام کی حیثیت سے بیچ دیے گئے۔ پھر مصر پہنچے، وہاں فروخت ہوکر بادشاہ کے محل میں جاپہنچے، الزام لگا، جیل میں رہے، باہر آئے، وزیر خزانہ بنے، قحط پڑا، بھائی غلہ لینے آئے، پھر سیدنا یوسف علیہ السلام نے ان سے بات چیت کی، اپنے والد کو بلایا، بھائی اور والدین مصر آگئے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے والدین کو تخت پر بٹھایا، بھائی سامنے کھڑے تھے، وہ سجدے میں گرگئے ۔ اس موقع پر یوسف علیہ السلام نے کہا: ﴿يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا ﴾ ’’میرے ابا جان! یہ میرے پہلے کے خواب کی تعبیر ہے۔میرے رب نے اسے سچا کردیا ہے۔‘‘[1] ان تمام واقعات میں کتنا عرصہ لگا ہوگا؟ کنویں سے نکل کر تخت پر بیٹھنے تک، پھر یعقوب علیہ السلام کے آنے تک کم و بیش چالیس سال تو بیت ہی گئے ہوں گے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کے خواب سے حاصل ہونے والے اسباق سیدنا یوسف علیہ السلام کے خواب سے جو مسائل اخذ ہوتے اور جو اسباق سامنے آتے ہیں ان میں سے چند یہاں تحریر کیے جاتے ہیں: 1 .خواب چھوٹی عمر میں بھی آسکتے ہیں۔ ان میں ان کے عظیم انسان بننے کا اشارہ ہوتا ہے۔ 2 .انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب حقیقت پر مبنی اور وحی الٰہی کا حصہ ہوتے ہیں۔ 3 .خواب صرف اپنے ہمدرد، خیر خواہ دوست اور عقل مند آدمی ہی کو بتانا چاہیے۔ حاسد، بدخواہ اور بغض و عناد رکھنے والے کو بتانے سے احتراز کرنا چاہیے۔ 4 .خوابوں کی تعبیر کاعلم ہونا اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے [1] یوسف 100:12۔