کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 46
کہ ہر بات کی کل ٹھیک بیٹھ جائے۔ پھر مولانا آزاد نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے خاندان کا ذکر کیا ہے کہ وہ بدوی اور صحرائی زندگی کے عادی تھے۔ انھیں امورِ سلطنت اور اس کا نظم و نسق چلانے کا تجربہ نہیں تھا۔ اگرچہ خاندان میں نبوت و رسالت تھی مگر تأویل الاحادیث کا علیحدہ ذکر کرنا پھر سیدنا یوسف علیہ السلام کے ساتھ تاویل الاحادیث کو خاص کرنا، اس کا مطلب ہے کہ یہ نبوت سے علیحدہ کوئی چیزتھی جو صرف سیدنا یوسف علیہ السلام کی خصوصیت تھی۔ خوابوں کی تعبیر تو اللہ تعالیٰ انبیائے کرام علیہم السلام کو وحی کے ذریعے بتادیتا تھا مگر اس بارے میں سیدنا یوسف علیہ السلام کو خاص اعزاز وامتیاز اور تفوق حاصل تھا۔ پھر بطور انعام تین مقامات پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے ساتھ تأویل الاحادیث کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں یہ خصوصیت حاصل تھی جو دیگر انبیاء کو حاصل نہیں تھی۔ معاملہ فہمی، فراست، بات کی تہ تک پہنچنا، اس کا حل بتانا یہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے صرف سیدنا یوسف علیہ السلام ہی کو بخشا تھا۔ پھر آگے انھوں نے جس طرح مملکت کا نظم و نسق چلایا،اس سے ان کی زبردست صلاحیت و لیاقت سب پر آشکار ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کمال سیدنا یوسف علیہ السلام ہی کو عنایت کیا تھا۔[1] خواب کی تعبیر خواب کی تعبیر کے سلسلے میں یہ آگاہی بھی ضروری ہے کہ کبھی تو اس کی تعبیر اسی وقت سامنے آجاتی ہے اور بعض دفعہ عرصہ لگ جاتا ہے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر خواب دیکھنے کے چالیس سال بعد رونما ہوئی۔ ایک قول کے مطابق 85 سال کے بعد رونما ہوئی۔[2] سیدنا یوسف علیہ السلام کو خواب آیا، بھائی انھیں لے کر دور نکل گئے، کنویں میں پھینکا، [1] ملخص از: ترجمان القرآن:2؍ 263-262۔ [2] تفسیر ابن کثیر: 3؍338۔