کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 45
کی تعبیر) بھی سکھائے گا۔‘‘[1] سیدنا یعقوب علیہ السلام کے باپ دادا سیدنا اسحق اور سیدنا ابراہیم علیہما السلام بھی نبی تھے۔ یعقوب علیہ السلام نے نبوت کی فراست سے سمجھ لیا تھا کہ بیٹے کا خواب معمولی نہیں، چاند، سورج اور ستارے اسے سجدہ کررہے ہیں تو یہ اس کی عظمت اور بلندی کی طرف اشارہ ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ بلند مقام سے سرفراز فرمائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان و انعام ہے۔ اسی گھر سے نبوت کا آفتاب بھی چمکے گا۔ اسی لیے بیٹے سے کہا: تمھارا رب تمھیں بابرکت اور برگزیدہ کرے گا۔ تم پر اپنی نعمت پوری کرے گا جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسحق علیہ السلام پر کی تھی۔ تمھیں بھی خلعت نبوت سے آراستہ کیا جائے گا۔ ﴿وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ﴾ ’’اور تمھیں خواب کی باتوں کا علم بھی سکھائے گا۔‘‘ امام مجاہد و دیگر مفسرین نے ’تأویل الاحادیث‘ سے خوابوں کی تعبیر کا علم مراد لیا ہے۔[2] کچھ مفسرین نے تاویل الاحادیث سے صرف خوابوں کی تعبیر کا علم مراد نہیں لیا بلکہ انھوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے معاملہ فہمی اور حقیقت شناسی مراد لی ہے اور ہر بات کی گہرائی تک پہنچ جانا اور اس کا حل تلاش کرلینا بھی اس میں شامل ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ نے ’’ترجمان القرآن‘‘ میں تأویل الاحادیث سے جو مراد لیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے: تاویل الاحادیث سے مراد باتوں کا مطلب، نتیجہ، مآل، بوجھ لینے کا علم لیا ہے،یعنی انسان میں ایسی بصیرت پیدا ہوجائے کہ معاملات کی تہ تک پہنچ جائے۔ امور مہمات کے بھیدوں کا رمز شناس ہوجائے۔ کوئی بات کتنی ہی الجھی ہوئی ہو، اسے اس انداز سے سلجھانا [1] یوسف 6:12۔ [2] تفسیر طبري: 13؍200۔