کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 42
ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام پر انعامات کا تذکرہ ان الفاظ سے فرمایا ہے: ﴿ وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَعَلَى آلِ يَعْقُوبَ كَمَا أَتَمَّهَا عَلَى أَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴾ ’’اور اسی طرح تمھارا رب تمھیں ممتاز (مقام عطا) کرے گا اور تمھیں باتوں (خوابوں) کی تعبیر کا علم سکھائے گا، اور جس طرح اس نے اپنی نعمت اس سے پہلے تمھارے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت پوری کرے گا، بے شک تمھارا رب خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔‘‘[1] بہرحال یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا: ﴿يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ ﴾ ’’میرے پیارے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا۔‘‘[2] اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسا آدمی جو حسد کرنے والا ہو اور آپ سے بغض و عناد رکھتا ہو اس کے سامنے ایسے خواب کا اظہار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کی جو تعبیر کردی جائے گی اسی طرح ہوگا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((الرُّؤیَا عَلٰی رِجْلِ طَائِرٍ مَّا لَمْ تُعَبَّرْ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ)) ’’جب تک خواب کی تعبیر بیان نہ کی جائے تو وہ ایسے ہے جیسے پرندوں کے پاؤں پر ہو، جب خواب کی تعبیر بیان کردی جائے تو وہ وقوع پذیر ہوجاتی ہے۔‘‘[3] جامع ترمذی میں ہے: ((وَلَا تُحَدِّثْ بِہَا إِلَّا لَبِیبًا أَوْحَبِیبًا)) [1] یوسف 6:12۔ [2] یوسف 5:12۔ [3] سنن أبي داود، حدیث: 5020۔