کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 41
لوگ رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ قرآن مجید کی حسب ذیل آیت سے استنباط ہے: ﴿وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ ﴾’’اور وہ ستاروں سے رہنمائی لیتے ہیں۔‘‘[1] سیدنا یعقوب علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے سیدنا یوسف علیہ السلام سے خواب سنا تو اسے پوشیدہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: ﴿ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴾ ’’میرے پیارے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا، ورنہ وہ تیرے خلاف کوئی (بری) تدبیر کریں گے، بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘[2] سیدنا یعقوب علیہ السلام جانتے تھے کہ اس خواب میں سیدنا یوسف علیہ السلام کی عزت و توقیر کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے فضل وکرم سے نوازے گا۔ علاوہ ازیں انھیں ان کے بھائیوں کی رقابت کا علم بھی ہوچکا تھا۔ اسی لیے انھوں نے خواب کو مخفی رکھنے کی تاکید فرمائی۔ مگر بھائیوں کو کسی طرح علم ہوگیا ہوگا یا انھوں نے والد کی محبت سے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ والد ہمیں اہمیت نہیں دیتا۔ ان وجوہ کی بنا پر انھوں نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو نصیحت کی کہ اس خواب کا اظہار نہ کرنا۔ مبادا وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر تمھاری جان کے درپے ہوجائیں۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے فہم و فراست سے اندازہ لگالیا تھا کہ اس خواب کا کیا مطلب ہے۔ مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سیدنا یوسف علیہ السلام کو عزت و احترام دے گا۔ اس کی عظمت کے سامنے اس کے بھائی سرنگوں بھی [1] النحل 16:16۔ [2] یوسف 5:12۔