کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 32
جو لوگ اطاعت کریں، ہمارے حکم کے سامنے جھک جائیں ہم ان کی مشکلات دور کر دیتے ہیں۔ دنیاوی مصائب نابود کرکے ان کے لیے سہولت پیدا کردیتے ہیں۔ آخرت کا اجر وثواب بھی ان کے نامہ اعمال میں لکھ دیتے ہیں۔ جو لوگ اشارہ پاتے ہی جھک جاتے ہیں انھیں اکرام و انعام سے نوازا جاتا ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یہ سنت قیامت تک کے لیے جاری کردی گئی۔ وہ سنت جس کا آغاز خواب ہی کے ذریعے سے ہوا تھا۔ اب یہ سنت نسلوں، صدیوں تک جاری رہے گی۔ اب اسلام کی سربلندی اوراعلائے کلمۃ اللہ اور جہادی راہوں میں جو قربانیاں پیش کی جاتی ہیں وہ سب اسی قربانی کا عکس ہیں۔ ﴿فَلَمَّا أَسْلَمَا ﴾کے تحت مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’جب حقیقت ِ اسلامی کی آخری مگر اصلی آزمائش کا وقت آیا تو وہ اسلام ہی تھا جس نے ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ میں چھری دی تاکہ فرزندِ عزیز کو ذبح کرکے محبتِ ماسوا اللہ کی قربانی کرے۔ اور اسلام ہی تھا جس نے اسماعیل علیہ السلام کی گردن جھکا دی تاکہ اپنی جانِ عزیز کو اس کی راہ میں قربان کردے۔ جب باپ نے بیٹے کو مینڈھے کی طرح پکڑ کر زمین پر گرادیا تو وہ اسلام ہی کا ہاتھ تھا جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اندر کام کررہا تھا۔ اور جب بیٹے نے اُسی ذوق و شوق کے ساتھ، جو مدتوں کے پیاسے کو آبِ شیریں سے ہوتا ہے، اپنی گردن مضطرب ہو کر چھری سے قریب کردی تو وہ حقیقتِ اسلامی ہی کی محویت کا استیلا تھا جس نے نفسِ اسماعیل علیہ السلام کو فنا کردیا تھا اور اسی فنا سے مقامِ ایمان کو بقا ہے۔‘‘[1] [1] ترجمان القرآن:3؍ 265،264۔