کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 30
یہ فیضانِ نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا یہ جملہ بڑا فصیح و بلیغ ہے۔ اس جملے نے خود پسندی اور فخرو غرور کے ہر شائبے کو دور کر دیا۔ اور معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا کہ اللہ نے توفیق اور ہمت دی تو ضرور صبر کروں گا۔ یہ عاجزی کی انتہا ہے۔ آدمی اگر کسی کام کی اہلیت رکھتا بھی ہو تو اسے بلند بانگ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ میں ایسا ضرور کروں گا بلکہ معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے جو وعدہ کیا تھا وہ سچ کردکھایا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں سورۂ مریم میں فرمایا ہے: ﴿ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا ﴾’’اور کتاب میں اسماعیل کا بھی ذکر کرو۔ بلاشبہ وہ وعدے کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے نبی تھے۔‘‘[1] سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو حلیم بیٹے کی بشارت دی گئی تھی جیسا کہ قرآن مجید میں وضاحت موجود ہے۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے جواب کو مذکورہ پیش گوئی کے تناظر میں دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایسا جواب وہی دے سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حلم کی صفت سے نوازا ہو۔ ﴿ فَلَمَّا أَسْلَمَا ﴾یعنی باپ بیٹا جو پہلے زبانی گفتگو کررہے تھے، اب انھوں نے عملی مظاہرہ بھی کردکھایا، دونوں اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے۔ باپ ذبح کرنے اور بیٹا ذبح ہونے کے لیے خوشی خوشی آمادہ ہوگیا۔ چشم فلک نے ایسا نظارہ کبھی نہیں دیکھا، تسلیم و رضا کا ایسا بے مثل مظاہرہ کبھی سامنے نہیں آیا۔ یہ قربانی جلد بازی میں نہیں بلکہ علیٰ وجہ البصیرت پیش کی گئی، باپ بیٹے میں باقاعدہ گفتگو ہوئی کہ اس خواب کو پایۂ تکمیل [1] مریم 54:19۔