کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 28
﴿ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (102) فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ (103) وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ (104) قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴾’’پھر جب وہ (لڑکا) ان کے ساتھ بھاگنے دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا: میرے پیارے بیٹے! بے شک میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں، اب تو سوچ لے! تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے کہا: اباجان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہی کیجیے۔ اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ پھر جب دونوں مطیع ہو گئے اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔ توہم نے اسے پکارا: اے ابراہیم! تو نے اپنا خواب سچ کردکھایا، بے شک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘[1] سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو یہ خواب تین دن تک متواتر آتا رہا۔[2] انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ اس خواب کا صاف مطلب یہ تھا: ابراہیم! تو اپنے بیٹے کو ذبح کردے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف حضرت جبریل علیہ السلام کو بھیج سکتا تھا۔ انھیں براہِ راست بھی حکم دیا جاسکتا تھامگر خواب میں کیوں دکھایا گیا؟ در اصل یہ امتحان اور آزمائش کا نقطۂ عروج تھا۔ خواب میں کئی احتمالات ہوسکتے تھے، اس میں اس گمان کی گنجائش بھی نکل سکتی تھی کہ ہوسکتا ہے یہ محض خیالات ہی ہوں۔اس میں کئی طرح کی تاویلات بھی ہوسکتی تھیں مگر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب کو بھی براہِ راست اپنے مقدس پروردگار کا حکم سمجھا۔اور یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ کو میرے بیٹے کی [1] الصّٰفّٰت 105-102:37۔ [2] تفسیر القرطبي، الصّٰفّٰت 102:37۔