کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 25
یارسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )! رات میری حالت یہ تھی کہ نہ پوری طرح بیدار تھا نہ پوری طرح سویا ہوا تھا۔ میرے پاس کوئی آنے والا آیا اور اس نے مجھے اذان دینے کا طریقہ سکھایا۔ راویِ حدیث بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی اذان کے طریقے کو خواب میں دیکھا تھا اور بیس دن تک اسے چھپائے رکھا۔ پھر انھوں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مَا مَنَعَکَ أَنْ تُخْبِرَنِي؟‘مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ وہ عرض کرنے لگے: عبداللہ بن زید مجھ سے سبقت لے گئے تھے، لہٰذا مجھے شرم محسوس ہوئی۔ بعدازاں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’یَا بِلَالُ! قُمْ مَا یَأْمُرُکَ بِہِ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ فَافْعَلْہُ‘’’اے بلال! کھڑے ہوکر دیکھو عبداللہ بن زیدتمھیں جو بتائیں اسی طرح کرنا۔‘‘ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ راوی ابو بشرکہتے ہیں کہ ابو عمیر نے انھیں بتایا کہ انصار کاکہنا تھا کہ اگر عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اس دن بیمار نہ ہوتے تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انھی کو مؤذن مقرر کر دیتے۔‘‘[1] اس حدیث سے معلوم ہواکہ اذان، جو نماز کی طرف بلانے کا ذریعہ ہے اور دن رات میں پانچ وقت دی جاتی ہے، اس کی ابتدا بھی خواب سے ہوئی۔ ہرچند اس کی شرعی حیثیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس خواب کو پیش کرنے اور اجازت لینے کے بعد اُجاگر ہوئی۔ بہرحال اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مسلمان کے خواب کی کتنی زبردست اہمیت ہے۔ دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی خواب دیکھا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کا طریق کار بتادیا۔ [1] سنن أبي داود، حدیث: 498۔