کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 23
انبیائے کرام علیہم السلام پر اپنا خاص فضل کرتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی انسان خواب میں ایسی باتوں کو دیکھتا ہے جو حقیقت میں بھی سچی ہوتی ہیں تو دراصل یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں جواللہ تعالیٰ انسان کے ذہن میں ڈال دیتا ہے۔ وہ الہام کی شکل میں ہوتے ہیں یا کشف کی شکل میں۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہیں۔ اسی لیے سچے خواب نبوت کا حصہ قرار دیے گئے ہیں۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ نبوت تو ختم ہوگئی ہے مگر مبشرات باقی ہیں۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ((لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ، قَالُوا: وَ مَاالْمُبَشِّرَاتُ، قَالَ: الرُّؤیَا الصَّالِحَۃُ)) ’’نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ صحابہ نے عرض کی: مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا: ’’سچا خواب (جس میں مومن کو بشارتیں ملتی ہیں)۔‘‘ [1] اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نبوت کا سلسلہ تو اب ختم ہوچکا۔ اب اہل ایمان کو مستقبل کے حالات کے بارے میں کسی طریقے سے کچھ علم ہوسکتا ہے تو وہ سچے خواب ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ حالات کو منکشف کرسکتا ہے۔ نیز حدیث میں یہ بھی آیا ہے: ’’قیامت کے قریب مومن کے خواب سچے ہوں گے۔ جو لوگ اپنی گفتگو میں سچے ہوں گے ان کے خواب بھی سچے ہوں گے ۔‘‘[2] ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ خوابوں کی کتنی اہمیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے اہتمام سے خواب بیان فرماتے، پھر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے خواب سنتے، اور ان کی تعبیر بیان فرماتے، اس کا تذکرہ آگے آئے گا۔ [1] صحیح البخاري، حدیث: 6990۔ [2] جامع الترمذي، حدیث: 2291۔