کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 22
سچے خواب نبوت کاچھیالیسواں حصہ ہیں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ رُؤیَا الْمُؤمِنِ جُزْئٌ مِّنْ سِتَّۃٍ وَّ اَرْبَعِینَ جُزْئً مِّنَ النُّبُوَّۃِ ’’مومن کا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصے میں سے ایک ہے۔‘‘[1] علامہ عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے اس حوالے سے جو کچھ بیان کیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے: ’’امام جزری رحمہ اللہ نے ’’نہایۃ‘‘ میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ چھیالیس کا عدد اس لیے مخصوص کیا گیا کہ صحیح روایات میں آتاہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 63 سال تھی اور نبوت کی مدت 23سال تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نبوت کے) پہلے چھ ماہ خواب میں جو کچھ دیکھتے وہی واقعہ بیداری کی حالت میں پیش آجاتا تھا۔ صبح کے اُجالے کی طرح خواب سچا ہوتا۔ اس طرح چھ ماہ آپ کو سچے خواب آتے رہے۔ آپ کی نبوت 23 سال تھی۔ اگر چھ ماہ کا حساب کریں آور 23 کو دوکے ساتھ ضرب دیں تو چھیالیس بنتا ہے۔ چھ ماہ خواب آتے رہے تو (یہ چھ ماہ کا دورانیہ) نبوت کا چھیالیسواں حصہ بنتا ہے۔ (انبیاء کے) خواب بھی وحی کا حصہ ہیں۔ بعض روایات میں پینتالیسویں حصے کابھی ذکر آتا ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی عمر پورے تریسٹھ (63)سال نہیں تھی، کچھ ماہ کم تھی۔[2] بعض روایات میں اس سے کم و بیش کا ذکر آتا ہے۔ دراصل یہ خواب دیکھنے والے پرمنحصر ہے۔ جس قدر وہ قول میں سچا ہوگا اُسی نسبت سے اس کا خواب بھی سچا ہوگا۔ خواب کو نبوت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ وحی میں اللہ تعالیٰ انبیائے کرام علیہم السلام کو ایسی چیز بتاتا ہے جسے کسی بھی طور معلوم کرنا عام انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ [1] صحیح البخاری، حدیث: 6987۔ [2] تحفۃ الأحوذي، تحت الحدیث: 2373۔