کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 21
ان واقعات تک پہنچ جاتا ہے جو مستقبل میں پیش آنے والے ہوتے ہیں۔ وہ ایک مبہم سی شکل میں سامنے آتے ہیں، پھر وہ انھیں واقعات کی شکل میں دیکھ لیتا ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی امتیاز نہیں۔[1] انسان ان حالات و واقعات کو کیسے دیکھ لیتا ہے؟ اور یہ اسے کون دکھاتا ہے؟ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ تفسیر مظہری میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں: ’’خواب کی حقیقت یہ ہے کہ نفسِ انسان جس وقت نیند یا بے ہوشی کے سبب بدن کی تدبیر سے فارغ ہوجاتا ہے تو اس کو اس کی قوتِ خیالیہ کی راہ سے کچھ صورتیں دکھائی دیتی ہیں، اسی کا نام خواب ہے۔پھر اس کی تین قسمیں ہیں جن میں سے دو بالکل باطل ہیں جن کی کوئی حقیقت اور اصلیت نہیں ہوتی اور ایک اپنی ذات کے اعتبارسے صحیح و صادق ہے مگر اس صحیح قسم میں بھی کبھی کچھ عوارض شامل ہوکر اس کو فاسد اور ناقابل اعتبار کردیتے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ انسان خواب میں جو مختلف صورتیں اور واقعات دیکھتا ہے دراصل وہ کسی وقت ان صورتوں کو بیداری کی حالت میں دیکھتا ہے، وہی صورتیں خواب میں متشکل ہوکر نظر آجاتی ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شیطان کچھ صورتیں اور واقعات خوش کرنے یا ڈرانے کے لیے اس کے ذہن میں ڈال دیتا ہے۔ یہ دونوں باطل اقسام ہیں۔ پہلی قسم کو حدیث النفس اور دوسری کو تسویلِ شیطانی کہا جاتا ہے۔ تیسری قسم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ انسان کو الہام کی شکل میں دکھاتا ہے۔ خزانۂ غیب میں سے کچھ چیزیں اس کے قلب و دماغ میں ڈال دی جاتی ہیں۔[2] [1] تفسیرفي ظلال القرآن: 4؍699۔ [2] معارف القرآن جلد:5؍ 19،18۔