کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 19
کا وقت ہے۔ وضو کرو اور نماز پڑھو۔ یہ انسان کا روزانہ کا معمول ہوتا ہے یا وہ جو کچھ سوچتا ہے وہی ذہن میں نقش ہوجاتا ہے اور اسے خواب کے ذریعے سب کچھ بتا دیا جاتا ہے۔ پھر جب آدمی بیدار ہوتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تو نماز ہی کا وقت تھا۔ اسی طرح یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ خواب میں کسی رکن کی ادائیگی سے وہ شخص اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآنہیں ہو گا۔ جیسے کوئی شخص خواب میں نماز ادا کرے تو ایسا نہیں ہے کہ اسے اب نماز پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں بلکہ وہ بیدار ہوکر نماز ادا کرے گا، شریعت کے احکامِ ظاہری کاوہ حالتِ بیداری میں بروقت ادا کرنے کا پوری طرح پابند ہے۔ خواب کے ذریعے خوشی یا غم محسوس کرنے کی بجائے خواب کی اور کوئی حیثیت نہیں۔ نہ اس سے کسی طرح کی کوئی بزرگی، ولایت اور پرہیزگاری چمکتی ہے۔ ایسی دکانداری چمکانی بھی نہیں چاہیے۔ شیخ عزالدین بن عبد السلام کے دور میں ایک قاضی کا واقعہ گزرا ہے۔ وہ ایک فیصلہ کرنے لگا تو خواب میں اس کے خلاف بتایا گیا۔ ہوا یوں کہ اسے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھارا فیصلہ غلط ہے۔ یہ معاملہ خلیفۂ وقت کے پاس گیا۔ علمائے کرام بھی موجود تھے۔ شیخ عزالدین نے فرمایا: آپ شریعت کے مطابق فیصلہ کریں۔ خواب کی روشنی میں فیصلہ کرنا جائز نہیں، چنانچہ علماء نے ان کی بات پر اتفاق کیا اور آپ کی رائے کو سب نے مستحسن قرار دیا۔ اس واقعہ سے خواب کی حیثیت اجاگر ہوجاتی ہے۔[1] [1] خواب کی شرعی حیثیت مفتی تقی عثمانی: اصلاحی خطبات ۔