کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 187
’’جسم، قد، زبان، عضو، داڑھی، ہاتھ، پاؤں میں زیادتی کا دیکھنا بھلائی ہے اوران اعضاء میں حد سے بڑھ کر زیادتی دیکھنا بُری اور رسوائی کی بات ہے۔‘‘ ’’جو لباس جس جگہ کا ہے، اگر اُسے اس جگہ سے ہٹ کر کسی اور جگہ دیکھا جائے تو یہ ایک مکروہ بات ہے، جیسے عمامہ کو پاؤں میں اور جراب کو سر میں دیکھا جائے تو یہ کسی اچھی بات کی علامت نہیں ہے۔‘‘ ’’جو شخص خواب میں دیکھے کہ وہ قاضی یا خلیفہ بنادیا گیا یا امیر یا وزیر بنادیا گیا اور اس نے کوئی ناواجب خطبہ دیا تو اس کی تعبیر کسی دنیوی بلا، برائی، رسوائی اور بدنامی ہے۔‘‘ اگر ناپسندیدہ کپڑے دیکھے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پرانے لباس نئے ملبوسات سے بہترہیں۔ ’’کسی آدمی کی موت خواب میں دیکھنے کی عموماً یہ تعبیر کی جاتی ہے کہ اسے توبہ کی توفیق اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نصیب ہوگا۔ اس لیے کہ موت دراصل اللہ کی طرف لوٹنا ہے، فرمانِ الٰہی ہے: ﴿ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللّٰهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ﴾ ’’پھر وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا سچا مالک ہے۔‘‘ [1] قرآنی آیات سے تعبیر ’’کشتی کی تعبیر نجات ہے کیونکہ قرآن میں ہے کہ ہم نے اسے (نوح) اور ان کو جو اس کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں تھے، بچالیا۔‘‘[2] ’’لکڑیوں کی تعبیر منافقین سے ہے۔‘‘ ’’پتھر کی تعبیر دل کی سختی سے ہے۔‘‘ [1] الأنعام 62:6۔ [2] الشعرآء 119:26۔