کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 178
لاجواب ہے۔ میں نے آج تک اتنا درخشاں موتی نہیں دیکھا۔ تم لوگ ایسا ایک اور موتی خرید لاؤ۔ میں چاہتا ہوں کہ اس معیار کے دو موتی ساتھ ساتھ رکھوں۔ بادشاہ کے حکم پر اس کے کارندے دوبارہ باپ کے فرمانبردار نوجوان کے پاس پہنچے اور دوسرا موتی بھی خریدنے کی خواہش ظاہرکی۔ نوجوان نے دوسرا موتی بھی ساٹھ ہزار دینار میں بیچ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے چوتھے بھائی کو اس کی نیت کا کتنا اچھا پھل دیا۔ جسے وراثت میں ایک پیسہ بھی نہیں ملا تھا، اسے باپ کی خدمت کے صلے میں کتنی بڑی دولت مل گئی۔ جو والدین کی خدمت کرتا ہے اسے دنیا اور آخرت میں عظیم الشان انعامات ربانی سے نوازا جاتا ہے۔[1] [1] والدین کی اطاعت و نافرمانی کے واقعات، از مولاناعبدالمالک مجاہد ص: 374-371۔