کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 174
زور سے بجا رہے ہیں۔ ساتھ ہی یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یا علی مدد، یا غوث اعظم، یا علی مشکل کشا کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔ میں نہایت تعجب سے یہ منظر دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ مولانا اسماعیل رحمہ اللہ کی مسجد میں یہ کیا ہورہا ہے؟ اتنے میں بڑے دروازے کی طرف سے مولانا آئے اور میرے دائیں جانب کھڑے ہوگئے۔ وہ بھی نہایت غصے سے میری طرح سامنے منبرو محراب کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔ دوسرے دن مولانا عطاء اللہ حنیف کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھیں خواب سنایا تو فرمایا: آج کل مسجدوں میں جو کچھ ہورہا ہے۔ وہی مولانا اسماعیل صاحب کی مسجد میں ہو رہا ہوگا۔ بعد میں گوجرانوالہ کے دوستوں کی زبانی پتہ چلا کہ ان ہنگاموں کے دنوں میں وہ لوگ خاص طور سے مولانا کی مسجد میں آتے تھے، جو ان کے مخالف مذہبی گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہم مولوی اسماعیل کی مسجد میں یہ سلسلہ ضرور جاری رکھیں گے۔[1] مسجد سے گندگی کو اٹھانا راقم الحروف جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے گیا۔ تعلیم کا آخری سال تھا۔ ہم علامہ حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ سے بخاری شریف اور تفسیر القرآن پڑھتے تھے۔ حافظ صاحب کا معمول تھا کہ مدرسہ آتے، دو رکعت نماز ادا کرتے، پھر پڑھانے میں مشغول ہوجاتے۔ دوران تعلیم چاہے کوئی بھی بڑے سے بڑا شخص آجاتا، اس کی طرف توجہ نہیں دیتے تھے۔ پڑھانے کے بعد لیٹ جاتے۔ اکثر طلبہ ان کا بدن دباتے۔ آدھ گھنٹہ دباتے [1] نقوش عظمتِ رفتہ از مولانا محمد اسحاق بھٹی، ص: 250،249۔