کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 172
نہیں۔ اپنے رب سے پناہ مانگتا ہوا اُٹھ بیٹھا۔ خیال تھا یا ایک دھندلا سا تصورتھا کہ کوئی سی بجلی کسی شاخ پر گرنے والی ہے۔ خوابوں کی تعبیر کے بارے میں جو کچھ میں نے پڑھا ہے اس سے مختلف کیا ہوسکتا تھا۔ کوئی دس بجے صبح دفتر میں بیٹھا کام کررہا تھا کہ ماسٹرتاج الدین انصاری نے یہ خبر بد سنائی کہ مولانا سید داود غزنوی رحمہ اللہ انتقال فرماگئے ہیں۔ مولانا کے مکان سے فون آیا تھا کہ نو بجے صبح ایکا ایکی حرکت قلب بند ہونے سے اُن کا سفر حیات ختم ہوگیا ہے۔ إنا للّٰہ وَ إِنَّا إِلیہ راجعون۔[1] مولانا محمد صادق خلیل کا خواب مولانا محمد صادق خلیل جماعت کے مشہور و معروف مدرس اور عالم دین تھے۔ جامعہ تعلیم الاسلام اوڈانوالہ میں کئی سال تک پڑھاتے رہے۔ پھر جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں کئی سال تک تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے۔ کئی کتب کے انھوں نے تراجم کیے ہیں۔ مولانا صادق صاحب خود بتاتے ہیں کہ جب وہ سکول میں پڑھتے تھے تو تقریباً انھیں ہر رات یہ خواب آتا تھا کہ وہ فضا میں اُڑ رہے ہیں اور اُڑتے اُڑتے اپنے ساتھی طالبانِ علم سے کہتے ہیں: آؤ تم بھی میرے ساتھ اُڑو۔ وہ تو ان کا ساتھ نہیں دیتے تھے لیکن یہ خود اُڑتے ہوئے دور تک پہنچ جاتے۔ پھر نہایت آسانی سے جب جی چاہتا فضا سے زمین پر آجاتے۔ وہ یہ خواب مسلسل دیکھتے رہے۔ اس کی تعبیر یہی معلوم ہوتی ہے کہ انھوں نے طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیں اور ان کے بے شمار شاگرد ہیں جنھوں نے ان سے تعلیم حاصل کی اور ان کے ذریعے دور دراز علاقوں تک علم پہنچا۔ پھر تصنیف وتالیف اور بہت سی عربی کتب کے اردو [1] مولانا سید داود غزنوی مصنف سید ابوبکر غزنوی، ص: 63۔