کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 171
ان پر تبصرہ کیا ہے جبکہ دوسری روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ران انسانی ستر میں شامل نہیں۔ عام حالات میں بعض دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک اتفاقاً برہنہ ہوجاتی تھی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت سندًا بھی جرہد کی روایت سے قوی ہے۔ تو حافظ صاحب نے جواب میں فرمایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے جو ثابت ہے وہی معتبر ہے کہ ران ستر میں شامل نہیں۔ لیکن میرا رجحان سیدنا جرہد رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرف مائل ہے۔ اگرچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے قوی سند کے ساتھ ران کا ستر میں شامل نہ ہونا ثابت ہے۔ تاہم ران کو چھپانے ہی میں احتیاط ہے تاکہ ہم اختلاف سے بچ سکیں۔ حَتّٰی یُخْرَجَ مِنْ اِخْتِلَافِھِمْ امام بخاری رحمہ اللہ کا یہی فتویٰ ہے۔[1] یہ دونوں خواب مسائل شرعیہ سے مولانا یوسف رحمہ اللہ کے قلبی تعلق اور ذوقِ تحقیق کا نتیجہ ہیں۔ شورش کاشمیری کاخواب شورش کاشمیری مشہور شاعر، صحافی اور خطیب تھے۔ احرار سے تعلق رکھتے تھے اور چٹان کے ایڈیٹر تھے۔ اہلحدیث علماء خصوصاً غزنوی خاندان سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ مولانا داود غزنوی رحمہ اللہ انھیں اکثر اپنی سالانہ کانفرنسوں میں بلاتے تھے۔ موصوف نے بتایا کہ 6 دسمبر 1962ء کی صبح کو میں نے خواب دیکھا کہ مولانا داود غزنوی، سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے معانقہ کررہے ہیں، معاً آنکھ کھل گئی، مؤذن پکاررہا تھا: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔’’نماز نیند سے بہتر ہے۔‘‘ میں خوابوں کے معاملہ میں زیادہ پریشان ہونے کا عادی [1] قافلۂ حدیث محمد إسحاق بھٹی، ص: 554،553۔