کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 170
درجہ بدرجہ آنے والوں کی حاضری درج کرتے ہیں۔ جب امام خطبہ کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو فرشتے اپنے دفتر لپیٹ کر خطبہ سنتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یہ تبویب قائم کی ہے: باب الاستماع إلی الخطبۃ وہاں حدیث کے الفاظ ہیں: ثُمَّ طَوَوْا صُحُفَہُمْ ’’پھر وہ اپنا دفتر لپیٹ دیتے ہیں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تاخیر سے آنے والوں کی حاضری فرشتے درج نہیں کرتے۔ اس عدم اندراج سے نام مراد ہیں یا ثواب؟ طَوَوْا صُحُفَہُمْ کا مطلب کیا ہے؟ حافظ صاحب نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ روز مرہ کے فرشتے کراماً کاتبین اور ہیں اور جمعہ کے اور۔ جمعہ کے فرشتوں کی ایک خاص جماعت ہے۔ یہ فرشتے صرف جمعہ کے دن حاضر ہوتے ہیں، لہٰذا بعد از شروع خطبہ آنے والوں کی حاضری کا اندراج نہیں کرتے، بلکہ عام کراماً کاتبین کرتے ہیں۔[1] خواب:2 امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یہ باب قائم کیا ہے: بَابُ مَا یُذْکَرُ فِي الْفَخِذِ۔ فَخِذ عربی میں ران کو کہتے ہیں۔ سوال ہے کہ ران انسانی ستر میں شامل ہے کہ نہیں، یہ سوال اکثر ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے۔ ایک دفعہ خواب میں حافظ عبداللہ روپڑی رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی۔ مولانا یوسف رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ ان سے دریافت کیا۔ یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے والے سیدنا عبداللہ بن عباس اور جَرہَد اور محمد بن جحش رضی اللہ عنہم ہیں۔ ان سے مروی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ران ستر میں شامل ہے۔ وَحَدِیثُ جَرْھَدٍ أَحْوَطُ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان الفاظ کے ساتھ [1] قافلۂ حدیث محمد إسحاق بھٹی، ص: 553۔