کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 169
کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شاہجہاں بادشاہ نے ان کو دو دفعہ چاندی میں تولا تھا۔ ہرعالم کی خواہش ہوتی تھی کاش! وہ ملا عبد الحکیم سیالکوٹی جیسا عالم بنے۔ اللہ تعالیٰ نے سیالکوٹ کے عالم دین مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کو رؤیا صادقہ میں خوشخبری دی کہ وہ ملا عبد الحکیم کے علوم کے حامل ہیں۔ واقعی اللہ تعالیٰ نے ان کو تمام علوم میں مہارت عطا کی، خصوصاً تفسیر قرآن، فنِ حدیث، علوم منطق وفلسفہ پر انھیں بڑا عبور تھا۔[1] مولانا محمد یوسف رحمہ اللہ راجووال کے دو علمی خواب مولانا محمد یوسف رحمہ اللہ جماعت کے مشہور عالم دین تھے۔ دارالحدیث کمالیہ کے مہتمم تھے۔ پچاس سال سے زیادہ عرصہ سے درس و تدریس کا کام کرتے رہے۔ تین دفعہ صحیح بخاری پڑھائی۔ بڑے علمی اور تحقیقی عالم دین تھے۔ انھیں خواب بھی تحقیقی قسم کے آتے تھے۔ ان کے صاحبزادہ حافظ عبداللہ سلیم جوانی میں فوت ہوگئے، وہ ہمارے ساتھ ایک عربی کورس میں لاہور میں تھے۔ خواب: 1 ایک دفعہ حافظ عبد اللہ روپڑی رحمہ اللہ خواب میں نہایت خوبصورت شکل اور لباس میں مولانا محمد یوسف کو ملے۔ حافظ صاحب کے ساتھ چھ آدمی اور بھی تھے جن میں حافظ ثناء اللہ صاحب مدنی بھی شامل تھے۔ مولانا یوسف نے یہ خواب جمعرات کو دیکھا تھا۔ جمعے کا خطبہ حضرت محدث روپڑی صاحب کو دینا تھا۔ فرمایا: محمد یوسف! ہم چھ آدمی ہیں، ہمارے کھانے کا انتظام کرو۔ مولانا نے یہ حکم بخوشی قبول کیا اور ساتھ ہی یہ مسئلہ دریافت کیا کہ حدیث میں آتا ہے کہ جو فرشتے قبل از خطبہ دفتر لے کر مسجد میں حاضر ہوتے اور [1] حیات مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی، قاضی اسلم سیف، ص: 46۔