کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 168
رمضان کا مہینہ تھا اور عصر کا وقت کہ مولانا کو اپنے آدمی عبد القادر کی گرفتاری کی اطلاع ملی اور پتہ چلا کہ وہ گوروں کے حوالات میں محبوس ہے اور اس پر چار گوروں کا پہرہ ہے۔ دوسری صبح اس کا کورٹ مارشل ہوگا۔ حدیث شریف میں آیا ہے: افطار کے وقت کی دعا کو بارگاہِ الٰہی میں شرف قبولیت حاصل ہوتا ہے، چنانچہ مولانا نے افطار کے وقت نہایت خشوع و خضوع سے عبد القادر کی رہائی کے لیے دعا مانگی۔ پھر نمازِ عشاء کے بعد اور تہجد کے بعد دعا مانگی۔ نماز فجر کے بعد پھر اللہ سے وہی التجا کی اور وہیں لیٹ گئے۔ رات بھر جاگنے کی وجہ سے نیند آگئی۔ خواب میں دیکھا کہ عبد القادر آگیا ہے اور وہ واقعی آگیا۔ اس نے بتایا کہ میں حوالات میں نماز تہجد کے لیے اٹھا تو دیکھا کہ ایک بزرگ صورت شخص حوالات کے دروازے پر آئے۔ میرا کوٹ ان کے ہاتھ میں تھا۔ انھوں نے تالا کھولا اور کوٹ میرے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام خطوط اور کاغذات وغیرہ موجود ہیں۔ اللہ کا شکر ادا کرو۔ اس نے تمھاری رہائی کے اسباب پیدا کردیے۔ یہاں سے نکال دینا میرا کام تھا۔ اب بھاگ جانا تمھارا کام ہے پیچھے مُڑ کربھی نہ دیکھنا۔[1] مولانا ابراہیم میرسیالکوٹی رحمہ اللہ کا خواب سیالکوٹ میں بڑی علمی شخصیات پیدا ہوئی ہیں جن میں ملا عبد الحکیم سیالکوٹی بھی شامل ہیں۔ علمی طور پر بڑے مشہور تھے۔ کئی کتب پر ان کے حاشیے بھی موجود ہیں۔ مختلف علوم و فنون میں خصوصاً منطق، فلسفہ میں اگرکوئی مثال دینی ہو تو ملا عبد الحکیم سیالکوٹی کی مثال دی جاتی ہے۔ بڑی دور دراز سے علماء ان سے علوم حاصل کرنے کے لیے تشریف لاتے تھے۔ انھی [1] قصوری خاندان، از محمد إسحاق بھٹی، ص: 142۔