کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 167
مدرسہ غزنویہ میں پڑھانے گئے۔ انھوں نے انھیں اپنی مسند کا جانشین بنایا تو انھیں کہا: نیک محمد! موت سے پہلے اس مسند کو نہ چھوڑنا۔ بے وفائی نہ کرنا۔ انھوں نے اپنے استاد کی بات یاد رکھی۔ بڑی تنگی کے مواقع آئے لیکن انھوں نے مدرسہ کو نہیں چھوڑا۔ فاقہ تک کی نوبت آجاتی تھی، کئی ماہ تک تنخواہ نہیں ملتی تھی۔ پھر بھی مدرسہ کو نہیں چھوڑا۔ ان کے دونوں بچے کالج میں پڑھتے تھے۔ دارالحدیث رحمانیہ دہلی کے مہتمم شیخ عطاء الرحمن نے انھیں بڑی تنخواہ کی پیشکش کی کہ آپ ہمارے ہاں دہلی تشریف لے آئیں۔ انھوں نے پیشکش پر ذرا سا غور کیا، خواب میں سید عبدالجبار غزنوی رحمہ اللہ ملے۔ انھوں نے ڈانٹ کر کہا: نیک محمد! تمھیں تازندگی اس مسند کا جانشین بنایا تھا اور تم دہلی جانے کا سوچ رہے ہو۔ خواب سے بیدار ہوئے زارو قطار رونے لگے۔ اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا کہ موت سے پہلے نہیں جاؤں گا۔ واقعی نہیں گئے۔ ان کے تلامذہ کا حلقہ بڑا وسیع تھا۔[1] مولانا محمد علی قصوری کا خواب مولانا محمد علی قصوری، قصوری خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ اس خاندان کی انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے میں بڑی خدمات ہیں۔ یہ خاندان دینی اور دنیاوی علوم سے متصف رہا۔ مولانا بڑے مستجاب الدعوات تھے اور مجاہدین کی درپردہ بڑی خدمت کرتے تھے۔ وہ مختلف پیغامات دیگر مختلف افراد کو بھیجتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ ان کا ایک بااعتماد آدمی جو بڑے بڑے لیڈروں کے خطوط اور کاغذات لے کر جارہا تھا، پکڑا گیا۔ اُس کو حوالات میں بند کردیا گیا۔ اگر وہ خطوط انگریز حکومت کے ہاتھ لگ جاتے تو بڑے بڑے لیڈر پکڑے جاتے۔ [1] تحریک اہلحدیث، از مولانا قاضی محمد اسلم سیف، ص: 428،427۔