کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 164
صاحب کا کمال اتباع اور سچی جانشینی دکھائی گئی تھی۔[1] مولانا حافظ عبد اللہ غازی پوری رحمہ اللہ کا خواب اسی سلسلے کا ایک واقعہ مولانا عبد السلام مبارک پوری بیان کرتے ہیں کہ مولانا عبداللہ غازی پوری نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک مقام پر اژدہام کثیر ہے۔ لوگ بکثرت چلے آرہے ہیں اور مصافحہ کرکے برکت حاصل کررہے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کس کے مصافحہ کے لیے اس قدر اژدہام ہے؟ کسی نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں۔ لوگ آپ سے شرف مصافحہ حاصل کررہے ہیں۔ میں نے دیکھا ایک شخص اس اژدہام سے نکلا۔ میں نے پوچھا: کیا تو نے شرف مصافحہ حاصل کرلیا ہے؟ اُس نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا: مہربانی کرکے اپنا وہ ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دو تاکہ میں بھی مشرف ہوجاؤں اور برکت حاصل کر لوں۔ اس نے ہمت دلائی اور کہا: واسطہ کی کیا ضرورت ہے تم خود ہمت کرکے آگے بڑھو اور اژدہام سے دل میں کچھ بھی ہراس نہ لاؤ۔ بلاواسطہ شرف مصافحہ حاصل کرو، چنانچہ اس کے ہمت دلانے پر میں آگے بڑھا اور جنابِ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ مصافحہ اور برکت حاصل کی۔ اس پر میں نے اس شخص کا جس نے ہمت دلائی تھی، شکریہ ادا کیا اور مجھے نہایت مسرت ہوئی۔ … او کما قال۔ اس خواب کی تعبیر میں نے یہ سوچی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مجھے بذریعہ اس خواب کے بتایا کہ عمل بالسنۃ اور علم حدیث اور تحقیق مسائل کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور خواہ مخواہ کسی کی تقلید سے پرہیز کرنا چاہیے۔[2] [1] حوالہ تاریخ اہلحدیث:1؍ 493،492۔ (ڈاکٹر محمد بہاء الدین)۔ [2] تحریک ختم نبوت: 2؍314، ڈاکٹر محمد بہاء الدین، و حیات داؤد غزنوی از سید ابوبکر غزنوی، ص: 242، علماء اہلحدیث …ملک ابو یحییٰ خان نو شیروی: 1؍458۔